حدیث نمبر: 4483
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنَى فَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً وَكَانَ يُسَايِرُهُ قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَأَنَا لَا أَنْتَهِي فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوارتھا ‘ اسی دوران ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، اس نے سواری پراپنے ساتھ اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو سوارکیا ہوا تھا اور وہ دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو آپ نے پھر میرا چہرہ دوسری طرف کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح کیا، جبکہ میں باز نہ آ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔

وضاحت:
فوائد: … مزدلفہ کو ’’جَمْع‘‘ اور مشعرِ حرام بھی کہتے ہیں۔ اِن دو ابواب کی احادیث میں بیان کیے گئے احکام بالکل واضح ہیں، فوائد میں حسب ِ ضرورت وضاحت ہو چکی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے: حجاج کرام عشاء کے وقت مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی قصر نمازیں جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کریں گے، بعد ازاں آرام کریں گے اور نماز فجر کو اس کے اول وقت میں ادا کر کے طلوع آفتاب کے قریب تک ذکر میں مصروف ہو جائیں گے، وقوف مزدلفہ کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، بہرحال تلبیہ، تکبیر اور تہلیل جیسے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، امام کو چاہیے کہ وہ مزدلفہ میں نماز فجر ادا کے قزح پہاڑ کے پاس آ جائے، پھر طلوع آفتاب سے پہلے پہلے مزدلفہ سے مِنٰی کی طرف روانہ ہو جائیں۔ یہ سفر بھی سکون اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے، البتہ وادیٔ محسر کو تیزی کے ساتھ عبور کرنا چاہیے۔ مزدلفہ سے روانہ ہونے کے مزید احکام اگلے ابواب میں آ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1805»