الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ باب: مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4480
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ وَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمروبن میمون کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھائی اور اس کے بعدانہوں نے وقوف کیااور کہا: مشرکین طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ طلوع سے قبل ہی وہاں سے چل پڑے۔