الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ باب: مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4479
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا، جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیزروشن ہوگئی،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل پڑے۔