الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ باب: مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4477
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ: فَرَأَى النَّاسَ يُوْضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى: لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے، تم آرام آرام سے چلو۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کے ’’مِنْ عَرَفَۃَ‘‘ کے الفاظ کسی راوی کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل میں یہ الفاظ یوں تھے: ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ کی محفوظ روایات کے مطابق عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تھے اور مزدلفہ سے آگے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ مسند احمد کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مزدلفہ سے آگے کا سفر بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم نے ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ کے الفاظ کو درست قرار دیا، مزدلفہ کو ’’جَمْعٍ‘‘ کہتے ہیں۔