حدیث نمبر: 4476
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمِ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ)) ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِي ثُمَّ حَبَسَهَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے، آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،پھر وہیں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قزح پر گئے اور وہاں وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تا ہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آئے، وہاں آکر رک گئے اور پھر اپنی اونٹنی کو ہانکا، وہ دوڑ پڑی اور دوڑتی گئی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی کو عبور کرگئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو روک کر سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا اور چلتے چلتے جمرہ عقبہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رمی کی اور اس کے بعد قربان گاہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے (جہاں میں نے قربانیاں کی ہیں) اور منی سارے کا سارا ہی قربانی کی جگہ ہے، … ۔

وضاحت:
فوائد: … قُزَح ایک پہاڑ کا نام ہے، اسی کو مشعرِ حرام کہتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب فجر طلوع ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی، پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئی اور مشعرِ حرام کے پاس آ گئے، وہاں آ کر قبلہ رخ ہوئے اور دعا، تکبیراور تہلیل اور ایسے اذکار میں مصروف ہو گئے، جن میں اللہ تعالی کے ایک ہونے کا اقرار کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے رہے، یہاں تک کہ بہت زیادہ روشنی ہو گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے اور سیدنا فضل کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
(صحیح مسلم)
ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ} … ’’جب تم عرفات سے لوٹ تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ ‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۸)اگرچہ مزدلفہ میں مشعرِ حرام ایک پہاڑ کا نام ہے، لیکن اس آیت میں پورے مزدلفہ کو ہی مشعرحرام کہا جا رہا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کے وقوف کے دوران ذکر ِ کثیر کا اہتمام کیا جائے۔وادیٔ محسر وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھی والوں کو ہلاک کیا گیا تھا، سورۂ فیل میں اسی لشکر کا ذکر ہے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی سے تیزی کے ساتھ گزر گئے تھے اور ایسا کرنا ہی مسنون ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 562»