الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَالْمَبِيتِ بِهَا باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ فِي قِصَّةِ حَجِّهِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔