حدیث نمبر: 4472
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مغرب و عشاء کے لیے دو اذانوں کا اہتمام کرنا، یہ عمل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، اس لیے ایک اذان والی مرفوع روایات کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے گی۔ نماز مغرب کا معتاد وقت غروبِ آفتاب کے بعد ہے، لیکن اس مقام پر اس نماز کو عشاء کے وقت میںادا کیا جاتا ہے، اسی طرح نماز فجر کا معتاد وقت وہ ہے، جب فجر واضح طور پر ظاہر ہو جائے، لیکن مزدلفہ میں اِس کو طلوع فجر کے فوراً بعد ادا کر لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4472
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3969»