حدیث نمبر: 4466
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ الْفَضْلِ (بْنِ عَبَّاسٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ (وَفِيهِ:) ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ قَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ، البتہ اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے اور وہاں سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ آپ کی اونٹنی دوڑ پڑی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ اوپر کو اٹھائے ہوئے تھے ، تاہم وہ آپ کے سر سے بلند نہیں تھے اس روایت میں ہے : پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے ، وہ کہتے ہیں کہ آپ جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اس سفر کے دوران جلد بازی کا مظاہرہ نہیںکرنا چاہیے اور سواریوں کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے، بلکہ سکون اور آرام سے چلنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1816»