الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَةَ باب: عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَسَارَ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، اونٹنی دوڑ پڑی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تا ہم ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے بلند نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ پہنچنے تک آرام سے چلتے رہے، پھر اگلے دن جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔