حدیث نمبر: 4464
عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ تَسَارَعَ قَوْمٌ فَقَالَ: ((امْتَدُّوا وَسَدُّوا لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً تَعْدُو حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … کھل کھل کر چلو تاکہ کسی کو تکلیف بھی نہ ہو اور وادی بھی بھری ہوئی نظرآئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1920، واخرجه البخاري: 1671 بلفظ: ((ايھا الناس عليكم بالسكينة، فان البر ليس بالايضاع۔)) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2099»