الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَةَ باب: عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
حدیث نمبر: 4464
عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ تَسَارَعَ قَوْمٌ فَقَالَ: ((امْتَدُّوا وَسَدُّوا لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً تَعْدُو حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کھل کھل کر چلو تاکہ کسی کو تکلیف بھی نہ ہو اور وادی بھی بھری ہوئی نظرآئے۔