الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ وَالنُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ باب: عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
حدیث نمبر: 4459
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔
وضاحت:
فوائد: … ’’رات کے شروع‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی رات کے داخل ہوجانے کے بعد عرفہ سے روانہ ہوئے تھے۔ عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں چلے۔ وادی بطحاء سے (نہ کہ وادی بطحاء میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندھیرا چھا جانے کے بعد چلے ہیں حدیث میں لیلۃ النفر (کوچ کرنے کی رات) سے تیرہ ذوالحج کی بعد والی رات مراد ہے جب آپ مدینہ واپس آنے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔