حدیث نمبر: 4454
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَفْضَلُ مَا قُلْتُ اَنَا وَالنَّبِیُّوْنَ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ: لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) … ’’سب سے افضل کلمہ‘ جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے عرفہ کی شام کو پڑھا‘ یہ ہے: ’’لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔‘‘ (نہیں کوئی معبود برحق مگر اللہ‘ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‘ ساری بادشاہی اور ساری تعریف اسی کی ہے‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔)
(الطبرانی: ۱۳/۲)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ
عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗلَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … ’’عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالی زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث میں ہے: (ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور جائے وقوف میں پہنچ گئے اور وہاں اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کی قصواء اونٹنی کا پیٹ (جبل رحمت کے نیچے پڑئی ہوئی) چٹانوں کی طرف تھا اور لوگوں کا مجمع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قبلہ رخ ہوئے اور غروبِ آفتاب تک اسی طرح کھڑے رہے۔ احادیث نمبر (۴۴۶۵، ۴۴۶۶) سے ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقوفِ عرفہ کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتوں کا پاس ولحاظ رکھیں، مثلا: امام کا خطبہ سننا اور اس کے ساتھ باجماعت ظہر وعصر ادا کرنا، اگر مرکزی جماعت نہ مل سکے تو اپنے اپنے خیموں میں ان دو نمازوں کو اسی طریقے کے مطابق ادا کرنا، قبلہ رخ ہو کر وقوف کرنا، کثرت سے مخصوص اذکار کرنا، دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں، گفتگو اور لمبا چوڑا کھانے پینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر سے فارغ ہو کر غروب آفتاب تک مسلسل قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے۔
تنبیہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ والے دن جمعہ تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر ادا کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3585 بلفظ: خير الدعاء دعاء يوم عرفة، وخير ما قلت انا والنبيون من قبلي: لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وھو علي كل شيء قدير۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6961»