الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْوُقُوفِ عَلَى الدَّابَّةِ بِعَرَفَةَ وَالْخُطْبَةِ بِهَا وَالدُّعَاءِ باب: عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4452
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِي يُؤْمِئُ بِيَدِهِ فِي يَدِهِ الْقَضِيبُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔