حدیث نمبر: 4448
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّى يَدْفَعَ مَعَهُمْ مِنْهَا تَوْفِيقًا مِنَ اللَّهِ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از بعثت لوگوںکے ساتھ عرفات میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں وقوف کر رہے تھے،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی کی توفیق سے لوگوں کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نزول وحی سے قبل بھی اپنی قوم کی عادت کی مخالفت کی اور عام لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیا،یہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہوا، پھر جب دین اسلام کا نزول ہوا تو اللہ تعالی نے قریشیوں کو حکم دیا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح عرفہ سے واپس لوٹیں۔ اللہ تعالی کے فرمان {ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ} میں یہی حکم دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرفات میں جانا اور وہاں سواری پر وقوف کرنا بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے خاص توفیق حاصل تھی اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی عمل پر برقرار رکھنا تھا، بہرحال حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری پر وقوف کیا اور یہی عمل ہمارے لیے حجت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن خزيمة: 3057، والحاكم: 1/ 464، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1577، 1578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16879»