حدیث نمبر: 4447
عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ، قُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟

وضاحت:
فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کسی حج کا ہے، اس وقت سیدنا جبیر کافر تھے اور فتح مکہ یا غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے، ان کو اس سے تعجب ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو قریشی ہیں اور عرفات میں وقوف کر رہے ہیں۔ اگلے باب کی پہلی حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں قریشی لوگ وقوفِ عرفہ ترک کر کے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور کہتے تھے: ہم لوگ ’’حُمْس‘‘ ہیں، اس لیے ہم حرم سے نہیں نکلیں گے اور باقی سارے لوگ عرفہ میں پہنچ کر وقوف کرتے تھے۔’’حُمْس‘‘، ’’تَحَمُّس‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی تشدّد اور مذہب میں سخت اور پکے ہونے کے ہیں، اس سے مراد قریشی اور وہ قبائل ہیں، جنہوں نے اُن کی طرح تشدّد اختیار کیا ہوا تھا۔ عرفہ کا وقوف حج کا سب سے مشہور رکن ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔
اس دن کا وقوف کیسے کیا جائے؟ اس کا بیان اگلے باب میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4447
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1664، ومسلم: 1220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16857»