الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وُجُوبِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَوَقْتِهِ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ باب: وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو (يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ) عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي مَكَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ بَعِيدٍ، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: ((كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ)) لِمِكَانٍ تَبَاعَدَهُ عَمْرٌوترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید بن شیبان کہتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم موقف سے دور ایک مقام میں تھے، اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم اپنی اسی جگہ پر ٹھہرے رہو، تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر ہی ہو۔ یہ فرمان اس جگہ کے بارے میں تھا، جس کو عمرو دور سمجھ رہے تھے۔