حدیث نمبر: 4445
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنَى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا میدانِ عرفات وقوف کی جگہ ہے، البتہ تم وادیٔ عرنہ سے ہٹ کر رہو، اسی طرح سارامزدلفہ جائے وقوف ہے اور تم وادیٔ محسر سے دور رہو اورمنیٰ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور تشریق کے تمام ایام قربانی کے دن ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … مِنٰی اور عرفہ کے درمیان وادیٔ عرنہ اور مِنٰی اور مزدلفہ کے درمیان وادیٔ مُحَسِّر واقع ہے۔ چونکہ وادیٔ عرنہ عرفہ کا اور وادیٔ محسر مزدلفہ کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ وقوف ان سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، حدیث نمبر (۴۴۸۵)میں یہ بات آ رہی ہے کہ وادی محسر مِنی کا حصہ ہے، بہرحال اس میں قیام کرنا منع ہے۔ وادیٔ مُحَسِّر کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ابرہہ کا ہاتھی اس وادی میں آ کر تھک گیا، اس پر ابرہہ اور اس کے ساتھیوں کو حسرت ہوئی، جبکہ مُحَسِّر کا معانی حسرت میں ڈالنے والا ہے۔ ایک پتھر کی پھینک تک اس وادی کا احاطہ ہے۔حدیث کے آخری ٹکڑے سے معلوم ہوا کہ (۱۳) ذوالحجہ کے دن غروبِ آفتاب تک قربانی کی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 1126، وابن حبان: 3854،و البيھقي: 9/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16872»