حدیث نمبر: 4443
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِي، … الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچا ہوں اور میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا ہے …

وضاحت:
فوائد: … پہلے یہ ترتیب بیان کی جا چکی ہے کہ حجاج کرام نو ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد مِنٰی سے روانہ ہو جائیں گے اور عرفات پہنچ کر غروب ِ آفتاب تک وقوف کریں، سورج کے اچھی طرح غروب ہوتنے کے بعد مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیںاور یہاں مغرب وعشاء کو جمع کر کے اور نماز فجر کو اس کے پہلے وقت میں ادا کریں گے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس وقت تک عرفات میں پہنچ ہی نہ سکے تو وہ رات کا کچھ حصہ وقوف کر کے مزدلفہ پہنچ کر نمازِ فجر ادا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16309»