الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وُجُوبِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَوَقْتِهِ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ باب: وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَى جَمْعًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ: ((مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ))۔ سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں حج کیا، وہ رات کو پہنچا تھا، اس وقت لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ عرفات چلا گیا، پھروہاں سے واپس مزدلفہ آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نے اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو خوب مشقت میں ڈالا ہے، کیا میرا حج ہوگیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور پھر ہماری روانگی تک یہیں وقوف کیااور اس سے قبل وہ دن یا رات کے کسی حصہ میں عرفات سے ہوآیا ہو تو اس کا حج مکمل ہے اور اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے۔
اب ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول عام ہے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل خاص ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال کے بعد وقوفِ عرفہ شروع کیا۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کی روشنی میں قول کو خاص کر دیا ہے، جبکہ امام احمد نے قولی حدیث کے عموم کو باقی رکھا ہے، یعنی ان کے نزدیک زوال سے پہلے بھی وقوف ہو سکتا ہے۔ امام احمد کا قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی عام کے بعض افراد پر عمل کر لینا اور دوسروں کی نفی نہ کرنا، اس سے تخصیص لازم نہیں آتی۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے مشہور بات یہ ہے کہ ’’تَفَث‘‘ سے مراد وہ چیز ہے جو محرِم حلال ہوتے وقت سر کے بال کاٹنے یا مونڈنے، زیرِ ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور دوسرے امورِ فطرت کو سرانجام دینے کی صورت میں کرتا ہے، ویسے ایک لحاظ سے اس میں قربانیاں کرنا اور حج کے تمام مناسک ادا کرنا بھی آ جاتا ہے، کیونکہ ان مناسک کے بعد ہی ’’تَفَث‘‘ کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ’’تَفَث‘‘ کے اصل معانی میل کچیل کے ہیں۔ دراصل اس جملے سے مزدلفہ اور عرفات کے وقوف کی اہمیت کو ثابت کیا جا رہا ہے۔