حدیث نمبر: 4440
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَرَفَةَ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ، أَمَّا نَحْنُ نُكَبِّرُ، قَالَ: قُلْتُ: الْعَجَبُ لَكُمْ كَيْفَ لَمْ تَسْأَلُوهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے،ہم میں کوئی تکبیر کہنے والا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا،تاہم ہم تو تکبیریں کہہ رہے تھے۔عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر سے کہا: تم پر بڑا تعجب ہے، تم نے (سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ) سے یہ کیوں نہیں پوچھا تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کچھ کیا تھا؟

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ حج کا احرام باندھنے سے لے کر دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ ’’لَبَّیْکَ، اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ … ‘‘ کا حکم جاری رہتا ہے، لیکن بیچ میں تکبیر و تہلیل جیسے دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4440
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4850»