الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسِيرِ إِلَى عَرَفَةَ باب: عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 4438
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا وَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔