حدیث نمبر: 4438
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا وَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4438
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 970، 1659، ومسلم: 1285 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13555»