الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الْمَسِيرِ مِنْ مِنَى وَالنُّزُولِ بِوَادِي نَمِرَةَ وَوَقْتِ الْقِيَامِ إِلَى الْمَوْقِفِ بِعَرَفَةَ باب: منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ وَادِي نَمِرَةَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّةُ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ ذَاكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرُوحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا :جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا :آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔
۲۔ جو آدمی مسجد میں نماز پڑھے گا، وہ جمع اور قصر کرے گا، وگرنہ ہر نماز اس کے وقت پر پوری پڑھنا پڑے گی۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے سفر کی وجہ سے جمع اور قصر کیا تھا، چونکہ ہم لوگ عرفات میں مقیم ہیں، اس لیے ہم نہ جمع کریں گے اور نہ قصر۔
قصر اور جمع کے لیے امام یا مسجد یا منفرد یا غیر مسجد کی قید لگا کر فرق کرنا اتنی غیر معقول بات ہے کہ ممکن ہے یہ عُقدہ کسی کو سمجھایا ہی نہ جا سکے، یہ بات تو تسلیم کر لی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باجماعت نماز ادا کی اور قصر اور جمع کا اہتمام کیا، لیکن اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ جو جماعت کے ساتھ شریک نہیں ہو گا، وہ نہ قصر کر سکتا ہے اور نہ اس کو جمع کر نے کا حق حاصل ہے۔ مسجد کا چونکہ اُس عہد میں وجود ہی نہ تھا، اس لیے اس کو بنیاد بنا کر جمع اور قصر میں فرق کرنا بھی خودساختہ سی بات لگتی ہے۔ رہا معاملہ آخری بات کا تو گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے اپنے سابق شہر میں پہنچ کر عرفات میں جمع اور قصر کرتے ہیں، لیکن پاکستان اور دوسرے ممالک سے جانے والے جب ایک دن یا نصف دن کے لیے عرفات میں قیام کے لیے جاتے ہیں تو یہ مقیم بن جاتے ہیں۔ سبحان اللہ!
اس سے حیران کن بات یہ ہے کہ جب اسی دن کی شام کو مغرب اور عشا کی نمازیں مزدلفہ میں جمع کر کے ادا کی جاتی ہیں، تو اس وقت یہ لوگ سارے نقطے بھول جاتے ہیں، نہ تو مزدلفہ میں اجتماعی جماعت ہوتی ہے، نہ وہاں کوئی مسجد ہے، اس پر مستزاد یہ کہ مسافت بھی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ مزدلفہ، عرفات کی بہ نسبت مکہ مکرمہ کے قریب ہے۔