حدیث نمبر: 4436
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنَى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔

وضاحت:
فوائد: … عرفات کے پاس ایک مقام کا نام وادیٔ نمرہ ہے، یہ وادی عرفات کا حصہ نہیں ہے، زوال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ عُرَنہ میں تشریف لائے اور وہاں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور خطبہ ارشاد فرمایا، جمہور اہل علم کے نزدیک وادیٔ عُرَنہ بھی عرفات کا حصہ نہیں ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرفہ میں وقوف کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ نمرہ میں رہے۔ امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام مالک کا یہی مسلک ہے، لیکن امام احمد زوال سے پہلے بھی وقوف کی اجازت دیتے ہیں، مؤخر الذکر قول راجح معلوم ہوتا ہے، مزید حدیث نمبر (۴۴۴۲)دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4436
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6130»