الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا باب: اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 4435
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنَى وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کی نمازِ ظہر اور عرفہ والے دن (یعنی نو ذوالحجہ) کو نمازِ فجر منی میں ادا کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مِنٰی میں ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نمازیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوع آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے اور سورج طلوع ہونے کے بعد عرفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ (صحیح مسلم)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حجاج کرام آٹھ ذو الحجہ کو نمازِ ظہر سے پہلے مِنٰی میں پہنچ جائیں اور نو ذوالحجہ کی نمازِ فجر ادا کر کے طلوعِ آفتاب تک وہیں قیام کریں، پھر سورج کے طلوع ہونے کے بعد عرفہ کے لیے روانہ ہو جائیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حجاج کرام آٹھ ذو الحجہ کو نمازِ ظہر سے پہلے مِنٰی میں پہنچ جائیں اور نو ذوالحجہ کی نمازِ فجر ادا کر کے طلوعِ آفتاب تک وہیں قیام کریں، پھر سورج کے طلوع ہونے کے بعد عرفہ کے لیے روانہ ہو جائیں۔