الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا باب: اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 4433
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنَى، وَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالعزیزبن رفیع کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کو یاد ہے تو مجھے بتلائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ ٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پھر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے بعد واپس جاتے ہوئے عصر کی نماز کہاں اداکی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح وادی میں۔اس کے بعد سیدناانس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا ؛تم اسی طرح کیا کرو، جیسے تمہارے حکمران کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ اور منی کے درمیان وادیٔ ابطح واقع ہے، اس کو بطحائ، محصّب اور معرّس بھی کہتے ہیں۔ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے عبد العزیز کے لیے دو مسئلوں کی وضاحت کی تو ان کو یہ اندیشہ ہونے لگا کہ ممکن ہے کہ یہ آدمی ان سنتوں پر عمل کرنے کا حریص ہو، لیکن ممکن ہے کہ اس کے امراء اس چیز کی پابندی نہ کرتے ہوں، اس لیے انھوں نے وضاحت کر دی کہ اس قسم کے مسائل میں حکمرانوں کا حکم تسلیم کر لینا چاہیے، تاکہ فتنہ برپا نہ ہو جائے۔