الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا باب: اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 4432
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ إِذَا اسْتَطَاعَ أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ بِمِنَى مِنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند تھی کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ ترویہ والے دن ظہرکی نماز منیٰ میں جاکر ادا کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز منیٰ میں اداکی تھی۔