الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا باب: اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 4430
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الَا فَخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى أَهَلُّوا بِالْحَجِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔
وضاحت:
فوائد: … آٹھ ذوالحجہ کو یوم الترویہ کہتے ہیں، ’’تَرْوِیَۃ‘‘ باب ’’رَوّٰییُرَوِّیْ‘‘ کا مصدر ہے، اس کا معنی سیراب کرنا ہے، چونکہ حجاج کرام آٹھ تاریخ کو آئندہ کے لیے پانی لے لیتے ہیں اور سیرابی کا سامان کر لیتے، اس لیے اس کو ترویہ والا دن کہتے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے، جس میں کنویں اور چشمے نہیں تھے، اب چونکہ ہر مقام پر وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ پانی اٹھانے یا اس کا اہتمام کرنے سے مستغنی ہو گئے ہیں۔