حدیث نمبر: 4423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً، ثُمَّ قَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا، وَلَكِنْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِمَا أَهْلَلْتَ؟)) قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ، قَالَ: فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي، قَالَ: وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4423
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 932، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2287»