الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ باب: حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4419
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي تَفَشَّتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَإِنْ رَغِمْتُمْ) قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی یہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔