حدیث نمبر: 4418
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلِّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1564، 3832، ومسلم: 1239، 1240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2360»