الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ باب: حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4417
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدِ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ، وَصَارَتْ عُمْرَةً كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ حج افراد کرنے واالا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کوحکم دیا تھا، یہاں وہ اسی رائے کو بیان کر رہے ہیں۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متفق نہیںہیں۔