الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ باب: حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4416
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلِّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔