حدیث نمبر: 4413
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ، فَقَالَ: ((وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ)) (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِيَ حَتَّى أَشْتَرِيهِ ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا أَحَلُّوا)) قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسِبُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔

وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اس امت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کا سب سے زیادہ حق ادا کرنے والے صحابۂ کرام ہی تھے، اس حقیقت کی غمازی کرنے والی اَن گنت مثالیں موجود ہیں۔تو پھر مذکورہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر ان کے متردد ہونے کا کیا معنی و مفہوم ہے، کچھ دوسری احادیث میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ توڑ دیا تھا، لیکن بعض صحابہ تردّد میں پڑ گئے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کی مجبوری کو مد نظر رکھ کر محض ان کو رخصت دی ہے، جبکہ اُن کا نظریہیہ ہوتا تھا کہ وہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس رخصت کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسئلے کی پوری وضاحت کرتے کہ یہ صرف رخصت والی بات نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ جن صحابہ کو حج کے موقع پر عمرہ ادائیگی کے بعد احرام کھولنے میں تردّد ہوا تھا، وہی بعد میں اسی حج تمتع کا فتوی دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25939»