الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ باب: حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ، فَقَالَ: ((وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ)) (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِيَ حَتَّى أَشْتَرِيهِ ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا أَحَلُّوا)) قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسِبُ)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔