الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ أَمْرِ الْمُتَمَتِّعِ بِالتَّحَلُّلِ بَعْدَ السَّعْيِ وَالْحَلْقِ أَوْ التَّقْصِيرِ إِلَّا مَنْ سَاقَ هَدْيًا. باب: حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ وَأَهْدَى، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ، قُلْنَ: مَا لَكَ أَنْتَ لَا تَحِلُّ؟ قَالَ: ((إِنِّي قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِي وَأَحْلِقَ رَأْسِي))۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کو لیپ دیا تھا اور قربانی کا جانور بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: کیا بات ہے کہ آپ خود تو احرام نہیں کھو ل رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال چکا ہوں اور سر کو لیپ کر رکھا ہے، لہٰذا میں جب تک حج اور سر منڈوانے سے فارغ نہ ہو جاؤں، اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا۔