حدیث نمبر: 4405
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَقَالَ: ((مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ)) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض افراد نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور بعض افراد نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے، لیکن قربانی کا جانور ان کے ساتھ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے ’’اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں‘‘ کا مصداق وہ لوگ ہیں، جن کے پاس قربانی کے جانور تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1562، 4408، 7229، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25388»