حدیث نمبر: 4401
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِي عَنِ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا مَاذَا؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے صفا مروہ کی سعی کے موقع پر سوار ہونے کے متعلق بتلائیں، کیونکہ آپ کی قوم تو اسے سنت سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے۔ میں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، سارے لوگ بھی آ گئے، حتی کہ نوجوان لڑکیاں بھی آگئیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کسی کو مارا نہیں جاتا تھا، (لیکن ہجوم بھی بہت زیادہ تھا) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف اور سعی سواری پر کی تھی، ورنہ آپ کو زیادہ پسند یہی تھا کہ آپ سواری سے نیچے اتر کر یہ عمل کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3492»