حدیث نمبر: 4399
عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5265»