الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْبَدْءِ بِالصَّفَا فِي الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَحُكْمِ الْمَشْيِ وَالرَّمَلِ فِيهِ) باب: صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4398
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔