الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وُجُوبِ الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ باب: صفا مروہ کی سعی
حدیث نمبر: 4392
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ وَرَاءَهُمْ وَهُوَ يَسْعَى حَتَّى أَرَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ وَهُوَ يَقُولُ: ((اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پیچھے اس قدر دوڑ رہے تھے کہ تیز چلنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادراڑ رہی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے دکھائی دے رہے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے یہ فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کوفرض کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حج و عمرہ میں سعی کرنا فرض ہے اور یہ رکن ہے، اس کے بغیر حج و عمرہ کی تکمیل نہیں ہو گی اور کسی قربانی وغیرہ سے اس کی تلافی نہیں ہو گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام اسحاق اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا یہی مسلک تھا۔