الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بَعْدَهُمَا باب: طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا فَقَالَ: ((أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ))۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔
اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔
وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کے بعدمقام ابراہیم کے قریب دورکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا اور صفا کی طرف چلے گئے، … ۔