الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بَعْدَهُمَا باب: طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: اسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعَةً، حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى} فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ، وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجراسود کا استلام کیا،اس کے بعد طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، طواف سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} (اورتم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھو) (سورۂ بقرہ: ۱۲۵) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دورکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی تھی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ حجراسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے، … ۔