الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يُقَالُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الطَّوَافِ وَعِنْدَ الِاسْتِلَامِ وَمَا كَانَ يَقُولُهُ أَهْلُ باب: طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور¤دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 4386
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الْيَوْمُ قَرْنَا عَيْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔