الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يُقَالُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الطَّوَافِ وَعِنْدَ الِاسْتِلَامِ وَمَا كَانَ يَقُولُهُ أَهْلُ باب: طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور¤دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 4383
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: ((بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۳۵۵) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ اور ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہہ لینا۔‘‘حجر اسود کا استلام کرتے وقت یہ الفاظ کہنے چاہئیں۔