الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ طَوَافِ أَهْلِ مَكَّةَ وَأُمُورٍ جَاءَتْ فِي الطَّوَافِ وَالْكَلَامِ فِيهِ باب: اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4381
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: ((قُدْهُ بِيَدِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ کا ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا، جس نے رسی وغیرہ کے ساتھ اپنا ہاتھ دوسرے آدمی کے ساتھ باندھا ہواتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر چلو۔
وضاحت:
فوائد: … تکریم انسانیت کا سبق دیا جا رہا ہے، اگر کسی انسان کو اس طرح پکڑنے کی ضرورت ہو تو اس کو ہاتھ سے پکڑنا چاہیے، رسی وغیرہ تو جانوروں کو ڈالی جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ دورانِ طواف خیر و بھلائی والی باتیں کی جا سکتی ہیں، حدیث نمبر (۴۳۲۶)کے فوائد میں اس موضوع سے متعلقہ مزید دلائل گزر چکے ہیں۔