الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي طَوَافِ الْقَارِنِ باب: حج قران کرنے والے کا طواف
حدیث نمبر: 4376
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ لَهَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … حج قران کرنے والا طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا، پھر (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور یہی طواف حج و عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کرے گا، جبکہ طواف قدوم کے ساتھ کی گئی صفا مروہ کی سعی ہی دونوں کے لیے کافی ہو گی۔ زیر مطالعہ حدیث اور دیگر صحیح صریح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قارن کے لیے صرف سعی نہیں بلکہ بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی کافی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری: ۳/ ۴۹۴۔ التعلیقات السلفیہ: ۲/ ۳۱،۳۲۔ جائزۃ الاحوذی: ۲/ ۲۵۷۔ (عبداللہ رفیق)