الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا باب: رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4050
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: ((إِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ أَوْ تَاسِعَةٍ وَعِشْرِينَ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: یہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہوتی ہے، اس شب کو کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلے چھ سات ابواب سے شب ِ قدر کے تعین کے بارے میں احادیث ِ مبارکہ کا سلسلہ جاری ہے، ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے: شب ِ قدر کو تلاش کرنے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کا قیام کیا جائے۔ ان میں سے کوئی رات، شب ِ قدرکے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ رات منتقل ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۰۳۳، ۴۰۳۵) سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں رمضان کی اکیس اور تئیس تاریخ کو شب ِ قدر تھی اور آخری باب کی احادیث سے ستائیسویںشب کے حق دلائل ملتے ہیں۔ شب ِ قدر کازیادہ امکان ستائیس تاریخ کو ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اس رات کو قیام کا خصوصی اہتمام کیاجائے اور باقی طاق راتوں سے غفلت برتی جائے۔ لیلۃ القدر کی علامتیں حدیث نمبر (۴۰۲۲) میں بیان ہو چکی ہیں۔