حدیث نمبر: 4046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّحْبَاوَاتِ؟)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ، مُسْتَتِرًا بِمُؤَخَّرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: شب ِ قدر کب ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ صہباوات والی رات کون سی تھی؟ سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یاد ہے، اس رات کو سحری کے وقت میں ہاتھ میں کھجوریں لے کر سحری کر رہا تھا اور طلوع فجر کے ڈر سے پالان کے پیچھے چھپا ہوا تھا، جبکہ اس وقت چاند طلوع ہو چکا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … خیبر کے قریب ایک جگہ کا نام ’’صہبائ‘‘ ہے۔ سنن بیہقی اور قاموس وغیرہ میں اس جگہ کا نام مفرد ہی مذکور ہے، جبکہ اس حدیث میں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ اس مقام کو ’’صہبائ‘‘ بھی کہتے ہوں اور ’’صہباوات‘‘ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صہباوات والی رات کے بارے میں سوال کر کے سائل کو یہ سمجھانا چاہا کہ وہ قدر والی رات تھی، کیونکہ اسی رات کو اس وقت میں چاند طلوع ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4046
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه۔ اخرجه الطيالسي: 329، وابو يعلي: 6393، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3565»