الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا باب: رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4045
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: لَوْلَا سُفَهَاؤُكُمْ، لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أَذُنَيَّ ثُمَّ نَادَيْتُ: أَلَا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، قَبْلَهَا ثَلَاثٌ وَبَعْدَهَا ثَلَاثٌ، نَبَّأَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ، قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ: يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَذَا هُوَ عِنْدِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زربن حبیش نے کہا: اگر یہ کم عقل لوگ نہ ہوتے تو میں کان میں انگلی ڈال کر زور زور سے یہ اعلان کرتا کہ شب ِ قدر، ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی آخری سات راتوں میں سے پہلے تین راتوں کے بعد اور آخری تین راتوں سے پہلے ہوتی ہے، اس شخصیت نے مجھے یہ بات بتائی جو مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی اور اس کو ایسی ہستی نے بیان کیا کہ وہ بھی اس کو جھوٹی بات بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے ابو یوسف سے کہا: کیا ان کی مراد سیدنا ابی بن کعب اور نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اسی طرح بات ہے۔
وضاحت:
فوائد: … زِرّ بن حبیش کی مراد ستائیسویں شب ہے، وہ ماہِ رمضان کو تیس دنوں کا فرض کر کے آخری سات راتوں کی درمیان والی شب کو قدر والی شب سمجھ رہے ہیں، جو کہ رمضان کی ستائیسوں شب بنتی ہے، انھوں نے یہ روایت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے لی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، ان کی جھوٹ نہ بول سکنے والی ہستیوں سے مراد یہی دو شخصیات ہیں۔