حدیث نمبر: 4043
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: ((لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ))، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: ((لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ))، فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ماہِ رمضان کی تئیسویں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات کے پہلے ایک تہائی تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس چیز کو تلاش کر رہے ہو، وہ بعد میں آئے گی۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس رات کے متلاشی ہو وہ اس کے بعد ہوگی۔ سو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ستائیسویں شب کو صبح تک قیام کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔

وضاحت:
فوائد: … ستائیسویںشب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاموش ہو جانا اور اگلی طاق رات کی طرف رہنمائی نہ کرنا، اس ثابت ہو رہا ہے کہ یہی شب ِ قدر ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابن خزيمة: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21899»