الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا باب: رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَذَاكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ أُبَيٌّ: أَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ! أَعْلَمُ أَيَّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ تَمْضِي مِنْ رَمَضَانَ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ تَرَقْرَقُ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ، فَزَعَمَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنَّ زِرًّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَصَدَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ يَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلَى آخِرِهِ، فَرَآهَا تَطْلُعُ صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، تَرَقْرَقُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْضَاءَ تَرَقْرَقُ)۔ زربن حبیش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے شب ِ قدر کے بارے میں آپس میں بحث کی، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: معبودِ برحق کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں بتلایا تھا، یہ ماہِ رمضان کی ستائیس تاریخ کی رات ہے، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زرّ نے اسے بتلایا کہ اس نے مسلسل تین برس تک پورا ماہِ رمضان طلوع آفتاب کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ واقعی ستائیس کی صبح کو سورج طلوع کے بعد جب بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، جبکہ اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔